ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو زاہد حسین میتلو نے عدلیہ اور جوڈیشل افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن دادو کو لکھے گئے مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ریاست کی مدعیت میں نامزد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
مراسلے کے مطابق، ایک فوجداری کیس کے فیصلے کے بعد چند شرپسند عناصر نے سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم شروع کی، جس میں ججوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور جھوٹے و توہین آمیز الزامات عائد کر کے نظامِ عدل کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ مذکورہ کیس سے سیشن جج کا کوئی تعلق نہیں تھا، اس کے باوجود انہیں اور دیگر افسران کو نشانہ بنایا گیا۔
حکم نامے میں خالد حسین کھہڑو، شاکر مسرور مہیسر، سجاد علی لغاری، علی اکبر شورو، ثاقب رحمان، نعمان پنہور، آصف علی سندی، کامریڈ فرحان کھوسو، دیشی دریا خان جتوئی، عابد لاشاری اور حسنین رضا بھٹی کو نامزد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے اقدامات پاکستان پینل کوڈ اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہیں۔
عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس بھی پولیس کے حوالے کر دیے ہیں اور ایف آئی آر درج کر کے کاپی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔