بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بستی میں ایک 25 سالہ نوجوان نے طلاق کے بعد اپنی نئی زندگی کا آغاز ایک منفرد اور روحانی انداز میں کیا، جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
جوگیش نامی نوجوان نے ازدواجی زندگی کی تلخیوں سے نجات کے بعد مذہبی عقیدت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ہندو تہوار نوراتری کے موقع پر 9 کلومیٹر طویل ’دندوت یاترا‘ مکمل کی۔ اس روایت کے تحت عقیدت مند زمین پر مکمل لیٹ کر آگے بڑھتا ہے اور یہی عمل پورے راستے دہراتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جوگیش کی شادی 2022 میں ہوئی تھی، تاہم کچھ ہی عرصے بعد میاں بیوی کے درمیان شدید اختلافات اور جھگڑے شروع ہو گئے۔ گھریلو ناچاقی اور ذہنی دباؤ سے تنگ آ کر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد جنوری 2026 میں ان کی طلاق مکمل ہوگئی۔
جوگیش کا کہنا ہے کہ انہوں نے مشکل وقت میں منت مانی تھی کہ اگر علیحدگی ہوئی تو وہ یہ دندوت یاترا کریں گے۔ اسی وعدے کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے روزہ رکھ کر صبح سویرے سفر کا آغاز کیا اور تقریباً 12 گھنٹوں میں 9 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ اس دوران وہ مسلسل مذہبی نعرے بھی بلند کرتے رہے۔
اس مشکل سفر میں جوگیش کے اہل خانہ، جن میں والدین اور بہن بھائی شامل تھے، ان کے ساتھ موجود رہے، جبکہ گاؤں کے دیگر افراد اور راہگیر بھی انہیں دیکھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے جمع ہوتے رہے۔
حکام کے مطابق اس یاترا کے لیے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی تھی، جبکہ مقامی پولیس نے سکیورٹی کے لیے ایک کانسٹیبل بھی تعینات کیا تھا۔
مندر پہنچ کر جوگیش نے مذہبی رسومات ادا کیں، ناریل توڑا اور روزہ کھول کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔ شدید جسمانی تھکن اور زخموں کے باوجود ان کے چہرے پر اطمینان اور سکون نمایاں تھا، جسے وہ اپنی زندگی کا ایک نیا اور خوشگوار باب قرار دے رہے ہیں۔