وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کے ڈھانچے سے متعلق آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فنانس ڈویژن کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاملے کو اٹھائے اور پیٹرولیم قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو موجودہ لیوی کے ذریعے متوازن بنانے کے لیے تجاویز تیار کرے۔ اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے جبکہ ڈیزل پر 55 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 129 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے جس کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور دیگر مدات میں بچت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے ملکی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ ہر ممکن اقدامات کیے جائیں تاکہ اس اضافے کا براہِ راست اثر عوام پر نہ پڑے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ فنانس ڈویژن آئی ایم ایف کے ساتھ لیوی کی ممکنہ تشکیلِ نو سے متعلق تفصیلی مشاورت کرے گا جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔