پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بہتر بنانے اور ریونیو نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے 56 ارب روپے سے زائد قرض حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق یہ رقم تقریباً 20 کروڑ ڈالر کے برابر بنتی ہے، ملک کے ٹیکس اور کسٹمز نظام کو جدید بنانے، شفافیت بڑھانے اور ڈیجیٹل اصلاحات نافذ کرنے پر خرچ کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت ڈیجیٹل انوائسنگ، پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹمز اور خودکار ریونیو وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ٹیکس وصولی کے عمل میں بہتری لائی جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنا، تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانا اور پاکستان کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔
اس منصوبے میں ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ایف بی آر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور جدید ریونیو نظام قائم کیا جا سکے، جو ملکی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہو۔
دوسری جانب ایف بی آر کو رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 610 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ایف بی آر نے 9,305 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جبکہ مقررہ ہدف 9,915 ارب روپے تھا۔
صرف مارچ 2026 میں ایف بی آر کو 187 ارب روپے کے خسارے کا سامنا رہا، جہاں 1,180 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ہدف 1,367 ارب روپے تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس اور سرچارجز کی مد میں حاصل ہونے والے 322 ارب روپے کی مدد سے ٹیکس شارٹ فال کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ آئندہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے مالی صورتحال کو بہتر دکھایا جا سکے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق باقی ماندہ مالی سال میں اہداف حاصل کرنے کے لیے اصلاحی اور ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔