اتحادی یا ثالث؟ عرب مبصرین کی تنقید، پاکستان کا دوٹوک جواب سامنے آگیا

image

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے فیصلے پر بعض عرب مبصرین کی تنقید سامنے آئی ہے جس پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کچھ عرب صحافیوں، اعلیٰ حکام اور اسٹریٹیجک ماہرین نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کوئی ملک بیک وقت اتحادی اور ثالث نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عرب ممالک سے تاریخی تعلقات ہیں اس لیے اسے غیرجانبدار رہنے یا ثالثی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اس پیچیدہ صورتحال کو یا ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف جیسے سادہ فارمولے میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض عرب ممالک اس مرحلے پر جنگ کے خاتمے کے خواہاں نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر پاکستان سے بھی اسی طرزِ عمل کی توقع رکھتے ہیں۔

جوابی بیان میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں کے بعد مزید کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ ایران کے اہم عسکری و سیاسی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں مزید جنگ کا راستہ اختیار کرنا خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ زمینی جنگ ایک 9 کروڑ آبادی والے ملک کے خلاف ایک بڑا چیلنج ہوگی جہاں عوام کی بڑی تعداد ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی حکمتِ عملی کیا ہوگی اور جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کیسی ہوگی۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ جنگ کا اختتام کسی بھی عسکری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتا ہے اور اگر اس میں غلطی ہو جائے تو پائیدار امن حاصل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ میں شامل ہونے سے کوئی مثبت فرق نہیں پڑتا تو ایسی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے جو آنے والی نسلوں میں نفرت کو جنم دے۔

پاکستان نے اپنے عرب برادر ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مستقبل میں دیگر تنازعات کی جانب بڑھ سکتا ہے جبکہ خطے کے ممالک عرب، ایران، ترکیے اور پاکستان کو بہرحال ایک ساتھ رہنا ہے اس لیے ایک قابلِ قبول سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو جنگوں اور ان کے اختتامی مراحل کا تجربہ ہے اس لیے اس کی ثالثی کی کوششوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے لیے سب سے بہتر راستہ جنگ کے بجائے امن، استحکام اور ایک جامع سیاسی حل کی تلاش ہے تاکہ تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول اور دیرپا امن یقینی بنایا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US