وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی خدمت کے مشن کے تحت مسلسل چار گھنٹے میں چار مختلف اہم پراجیکٹس کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وزیر داخلہ نے زیر تعمیر اسلام آباد ماڈل جیل، کیپٹل پولیس کالج، پولیس خدمت مرکز ایف-6 اور اتاترک ایونیو کے توسیعی منصوبے کا معائنہ کیا جبکہ اتاترک ایونیو کی توسیع کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے زیر تعمیر اسلام آباد ماڈل جیل کے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جیل کے بیرکس، ایڈمن بلاک اور باؤنڈری وال کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر ماڈل جیل کے پہلے فیز کو ہائی سیکیورٹی پرزن بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ماڈل جیل میں تعینات ہونے والے اہلکاروں کی تربیت 30 اپریل تک مکمل کی جائے۔
کیپٹل پولیس کالج آمد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے 2 آرمرڈ پرسنل کیریئر گاڑیاں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیں۔
وزیر داخلہ نے کیپٹل پولیس کالج کی اپ گریڈیشن کا مکمل پلان طلب کرتے ہوئے تربیتی استعداد میں نمایاں اضافے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تربیتی کورسز کی گنجائش کو 450 سے بڑھا کر 4000 تک لے جانے کا ٹاسک دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تربیتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اے آئی، آئی ٹی اور فزیکل ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر داخلہ نے ڈی ایس پی اور انسپکٹرز کے پروموشنل تربیتی کورسز کی کلاسز کا بھی دورہ کیا اور زیر تربیت افسران سے تربیت اور ترقیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف-6 میں واقع پولیس خدمت مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔
وہ مختلف کاؤنٹرز پر گئے، خدمات کی فراہمی کے عمل کا مشاہدہ کیا اور وہاں موجود شہریوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل دریافت کیے۔ شہریوں نے پولیس خدمت مرکز میں فراہم کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ خدمات کے نظام کو مزید بہتر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ پولیس خدمت مراکز میں شفاف اور تیز رفتار خدمات کی فراہمی پہلی ترجیح ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شہری سہولیات میں بہتری کے لیے حکومت ہر سطح پر بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔
اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ موجود تھے۔