مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر شدید اثرات کے پیشِ نظر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF)، ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے مشترکہ طور پر ایک رابطہ و ہم آہنگی گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تینوں عالمی اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ جنگ نہ صرف خطے میں تباہی کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کی سنگین قلت بھی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال میں اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
یہ نیا رابطہ گروپ جنگ کے مختلف ممالک پر اثرات کا جائزہ لے گا، مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے گا اور ضرورت مند ممالک کے لیے عالمی شراکت داروں کو متحرک کرے گا۔ اس ردِعمل کے تحت متاثرہ ممالک کو ہدفی پالیسی مشاورت، مالی ضروریات کا تخمینہ، کم یا صفر شرح سود پر مالی معاونت اور خطرات کم کرنے کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے اثرات عالمی اور غیر مساوی ہیں، جس سے توانائی درآمد کرنے والے اور کم آمدن والے ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
جنگ کے باعث تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خوراک کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ہیلیم، فاسفیٹ اور ایلومینیم جیسی اہم اشیا کی ترسیل کے ساتھ ساتھ سیاحت کا شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسی پر دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث دنیا بھر میں سخت مالیاتی پالیسی اور معاشی نمو میں سستی کا خطرہ ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ اب اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی معاشی استحکام و توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔