ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ’ان کا تعلق جارحیت کرنے والے ممالک سے نہ ہو۔‘ جبکہ ایرانی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’غیر اہم‘ اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ انھوں نے آنے والے ’تباہ کن، وسیع تر اور شدید‘ حملوں کی تنبیہ جاری کی ہے۔
- ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں'
- بغداد میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔
- ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر 'تباہ کن' اور 'وسیع تر' حملوں کی وارننگ۔
- صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب: ’ایران میں امریکی فوجی اہداف تکمیل کے قریب، آئندہ دو یا تین ہفتوں کے دوران ایران پر انتہائی شدید حملے کریں گے‘
- تقریباً 20 منٹ کے اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں شپنگ کے تحفظ کے لیے آگے آئیں، یا امریکی تیل خریدیں
ایران کی ٹرمپ کو جوابی حملوں کی دھمکی: ’امریکہ، اسرائیل نے غیر اہم اہداف کو نشانہ بنایا‘