راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن: حکام کی دو ہلاکتوں کی تصدیق، مظاہرین کے فائرنگ اور شیلنگ کے الزامات

کمشنر پونچھ کہتے ہیں کہ مظاہرین پر واضح کرُدیا گیا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم کے چار اراکین، جن کی گرفتاری کے حوالے سے انعامی رقم بھی رکھی گئی ہے، کوچھوڑ کر دیگر افراد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
Pakistan Kashmir
Getty Images

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ راولاکوٹ کے علاقے دریک عید گاہ کے قریب کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائینٹ ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیاناتوار کی علی الصبح فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں دو افراد مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کی صبح کمشنر وحید خان نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ عینی شاہین کے مطابق سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

سردار وحید خان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک کا تعلق پلندری جبکہ دوسرے کا تعلق ہجیرہ سے ہے

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے مجرمانہ ریکارڈ رکھتے تھے اور ان کے خلاف مخلتف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

کمشنر پونچھ کہتے ہیں کہ مظاہرین پر واضح کرُدیا گیا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم کے چار اراکین، جن کی گرفتاری کے حوالے سے انعامی رقم بھی رکھی گئی ہے، کوچھوڑ کر دیگر افراد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اس طرح مذاکرات کی دعوت دینا ان کی تنظیم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے اور ان کی تنظیم ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے راولا کوٹ کے قریب دریک عیدگاہ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے علاقہ خالی کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آزاد پتن کے مقام پر مظاہرین اب بھی موجود ہیں جن کی تعداد 500 سے بھی کم ہے۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران اہلکاروں اور پولیس کی بکتر بندی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا، تاہم چونکہ یہ گاڑی بم پروف ہوتی ہے اس لیے نقصان نہیں ہوا۔

ادھر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک رکن اکرم عباسی نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز اور پولیس نے دریک عید گاہ کے مقام پر لانگ مارچ کے شرکا پر اس وقت دھاوا بول دیا جب وہ پرامن طور پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ بھی کی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس لیے زخمیوں کو راولا کوٹ میں واقع سرکاری ہسپتال نہیں لیجا سکتے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانی والی جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں سے وہ مظفر آباد کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں وہیں روک کر رکھا ہوا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں 9 جون سے احتجاجاور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور روپوش ہونے والے رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔

یاد رہے کہ اس احتجاج کے دوران جھڑپوں میں اب تک چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور متحرک کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

Pakistan Kashmir
Getty Images

راولا کوٹ میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت

سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ جس طرح مظاہرین کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد اب شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے پاس اپنے دفاع کے لیے گولی چلانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ رات کے وقت مظاہرین منتشر ہو جاتے ہیں جبکہ دن کے وقت دوبارہ آ کر مخلتف مقامات پر دھرنا دے دیتے ہیں۔

راولا کوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ اس صورتحال میں لوگوں نے راشن ذخیرہ کیا ہے لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ اتنا طول پکڑ لے گا۔

Pakistan Kashmir
AFP via Getty Images

مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز

پونچھڈویژن کے کمشنر وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولا کوٹ آنے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمتِ عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب مظفر آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز بھی بنا لیے ہیں۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفر آباد کے ٹانگہ سٹینڈ اور دیگر علاقوں میں پولیس نے ریت کی بوریوں کی عارضی دیوار بنا کر چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔

تھانہ سٹی میں تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ اقدامات کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے ممکنہ طور پر مظفر آباد میں دھرنا دینے کی کال کے پیشِ نظر کیا گیا۔

فرحان طارق کے مطابق پولیس نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن راجہ صہیب جاوید کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ راجہ صہیب اپنے گھر آئے ہوئے ہیں جس پر پولیس انھیں گرفتار کرنے گئی تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

مارکیٹس اور کاروباری مراکز کی صورتحال

مقامی صحافی فرحان طارق نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دکانیں بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خورد ونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔

فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

مقامی صحافی جمیل صدیقی کے مطابق ضلع حویلی میں بازاروں میں آٹا دستیاب ہے نہ پیٹرول اور شہری اشیائے خورد ونوش کی تلاش میں نکلیں بھی تو پیٹرول دستیاب نہیں جس کے باعث وہ پیدل کئی کئی میل کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے کھلے ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خوردو نوش کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دکان کو سیل کردیا ہے۔

منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دکانیں کھلی رہیں جبکہ دودھدہی کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دکان دار کو زبردستی اپنی دکان پر کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

Pakistan Kashmir
Getty Images

کالعدم تنظیم کے کارکنوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز

پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ’مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US