معروف سرمایہ کار عارف حبیب نے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی اقدامات کے باوجود فوری طور پر ملکی معیشت میں نمایاں بہتری یا بڑے پیمانے پر نئی سرمایہ کاری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور نسبتاً زیادہ ٹیکس سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے بعد معاشی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار مہنگی توانائی اور بلند ٹیکسوں کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے سپر ٹیکس کے خاتمے اور توانائی کے نرخوں میں مزید کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کے باعث روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، جبکہ برآمدات بڑھانے کے لیے مزید ریلیف ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے اقدامات کی گنجائش موجود ہے، تاہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کی نشاندہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی بارہا کر چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے بجٹ کی تیاری میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی، تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو کچھ ریلیف فراہم کیا اور آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں لیا، لیکن اصل امتحان ان پالیسیوں کے عملی نتائج ہیں۔
دوسری جانب گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر زیاد بشیر نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت نے اپنی استطاعت کے مطابق معیشت کو استحکام دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ ویلیو ایڈیشن کے شعبے کو مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی اور ریلوے فریٹ کا حصہ پانچ فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
زیاد بشیر کے مطابق سڑکوں کے انفراسٹرکچر پر توجہ دی گئی، لیکن ریلوے نظام کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ پاکستان میں شپنگ کے لیے مؤثر ڈائریکٹ پورٹ انفراسٹرکچر کی بھی کمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل حل نہ کیے گئے تو عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔