ملک میں بائیومیٹرک تصدیقی نظام موجود ہونے کے باوجود غیر قانونی موبائل فون سموں کے اجرا کا سلسلہ نہ رک سکا، جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے سکیورٹی نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پی ٹی اے نے سم رجسٹریشن کے عمل کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کیلئے فنگر پرنٹ کے ساتھ فیشل ویریفکیشن بھی لازمی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے مجوزہ نظام کے تحت اب کسی بھی نئی سم کے اجرا سے قبل صارف کے انگوٹھے کے نشانات کے ساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کی تصدیق بھی کی جائے گی، تاکہ سم صرف اصل اور تصدیق شدہ صارف کو ہی جاری کی جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جعلی شناخت، فراڈ اور سموں کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔ حکام کے مطابق، بعض عناصر جعلی سلیکون فنگر پرنٹس اور چوری شدہ شناختی معلومات استعمال کرکے سمیں حاصل کر رہے تھے، جس سے موجودہ نظام کی خامیاں سامنے آئیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ چیئرمین پی ٹی اے نے متعلقہ حکام کو فیشل ویریفکیشن سسٹم کے جلد نفاذ کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے، جبکہ اس نئے نظام پر کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ سخت اور فول پروف تصدیقی نظام نہ صرف غیر قانونی سموں کے اجرا کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ دہشت گردی، سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور دیگر جرائم میں سموں کے استعمال کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔