مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی تیل بحران نے کئی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کی رپورٹ میں پاکستان کو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی تیل بحران کے ممکنہ اثرات پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ان ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس صورتحال کے انتہائی سنگین نتائج بھگت سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد عالمی توانائی اور تیل کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ ایران نے ان حملوں کا جواب دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور خلیجی ممالک میں موجود آئل ریفائنریز کو بھی نشانہ بنایا، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید متاثر کیا، جن میں پاکستان سرِفہرست ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے درآمد کیے جانے والے تیل پر منحصر ہے، اسی تناظر میں حکومت نے ملک میں کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
اسی منصوبے کے تحت وفاقی حکومت نے 6 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، تاکہ بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات کا بوجھ کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پاکستان کی معیشت اس بحران کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک نہ صرف تیل بلکہ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر بھی انحصار کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے پاکستانی شہری ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد یا اس سے زائد حصہ ترسیلاتِ زر کی صورت میں وطن بھیجتے ہیں، تاہم ایران جنگ کے باعث ان رقوم میں کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز کردہ سطح سے کم ہیں اور یہ ذخائر تین ماہ سے کم درآمدات کے لیے کافی ہیں، جو کہ معاشی خطرات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
’دی اکانومسٹ‘ کی فہرست میں پاکستان کے علاوہ مصر، اردن اور ایتھوپیا کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں معیشتیں خلیجی تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اردن کی معاشی صورتحال پاکستان سے ملتی جلتی ہے، جہاں بھاری قرضے اور تیل و گیس کی درآمدات کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار موجود ہے۔
اسی طرح مصر کو بھی کمزور معیشت کا سامنا ہے اور اسے رواں سال تقریباً 29 ارب ڈالر کا قرض ادا کرنا ہے، جو اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ ممالک میکرو اکنامک بحران سے بچ بھی جائیں تو بھی انہیں شدید اور تکلیف دہ معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔