خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں خودکش کار حملے کے نتیجے میں تین خواتین اور دو بچے جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق حملہ گذشتہ شب پیش آیا، جہاں بارود سے بھری گاڑی مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی گئی۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک رہائشی مکان سے ٹکرا گیا جس کے باعث دھماکا ہوگیا۔
مقامی پولیس اہلکار محمد سجاد خان نے غیرملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملہ آور کا بظاہر ہدف پولیس اسٹیشن تھا، لیکن وہ عجلت میں رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا۔
اسسٹنٹ کمشنر بنوں اکرام اللہ خان نے واقعے میں 3 خواتین اور 2 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اب تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم سیکیورٹی حکام کے مطابق کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی ماضی میں اس علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان بارہا افغانستان پر اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو انسانیت سوز اور بزدلانہ اقدام قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ معافی جرم ہے اور ان حملوں کے مرتکب افراد انسانیت کے دشمن ہیں۔ انھوں نے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔