ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث موسم ایک بار پھر سرد ہو گیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوہلو اور نصیرآباد میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کے بعد بعض مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ادھر آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، وادی ناران، سوات اور زیارت کے پہاڑی علاقوں میں اپریل کے مہینے میں ہونے والی برفباری نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔
سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہی جبکہ ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو میں تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری ریکارڈ کی گئی جس کے باعث برساتی ندی نالوں میں طغیانی آئی۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سوات، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم، خیبر، لوئر دیر، صوابی اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی بارش ہوئی جبکہ پشاور میں نالوں کا پانی سڑکوں پر آ گیا۔ مختلف حادثات میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے۔
سندھ کے کئی شہروں میں اپریل میں 24 گھنٹے کے دوران بارش کے نئے ریکارڈ بن گئے۔ کراچی میں اپریل کی بارش کا 41 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر 38.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ اپریل 1985 میں 37 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔
موہن جودڑو میں 60 ملی میٹر بارش سے 31 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، یہاں 1995 میں 22 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اسی طرح لاڑکانہ کا 1989 کا 26 ڈگری کا ریکارڈ ٹوٹ کر 22.5 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ بدین کا 1967 کا 26.1 ڈگری کا ریکارڈ 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے ٹوٹ گیا۔