بین الاقوامی قوانین کے 100 امریکی ماہرین نے ایران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کھلے خط میں سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قانونی ماہرین نے اپنے خط میں کہا کہ ایران میں اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانا باعث تشویش ہے اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
خط میں امریکی صدر کے اس بیان پر بھی تنقید کی گئی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر حملے محض تفریح کے لیے بھی کیے جا سکتے ہیں جسے ماہرین نے غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیا۔
امریکی ماہرین نے کہا کہ جاری جنگ امریکی ٹیکس دہندگان کو روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے۔مزید کہا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی قانونی حیثیت، فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار، دھمکی آمیز بیانات اور "کھلی چھوٹ" پالیسی پر شدید خدشات موجود ہیں اور عالمی برادری کو اس ضمن میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔