پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری واپسی کے مطالبے کے بعد 2 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رقم رواں ماہ کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو منتقل کر دی جائے گی۔ پاکستان کی جانب سے یہ قرض پہلے سیف ڈپازٹ کی صورت میں رکھا گیا تھا جس پر پاکستان باقاعدہ 6 فیصد شرح سود ادا کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے لیے اس قرض کو رول اوور کیا تھا اور دسمبر 2025 میں اس کی مدت میں قلیل عرصے کے لیے توسیع بھی دی گئی تھی۔ تاہم اب ابوظہبی کی جانب سے فوری واپسی کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد پاکستان نے قرض کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔