ملک کے مجموعی قرضوں میں گزشتہ تین سال کے دوران 3200 ارب روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد دسمبر 2025ء تک قرضوں کا مجموعی حجم 81 ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں قرضوں پر 8 ہزار 887 ارب روپے صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق جولائی تا دسمبر کے دوران 3563 ارب روپے سود ادا کیے گئے جبکہ جنوری تا جون 2026ء میں بھی قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی متوقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجموعی قرضوں کے اسٹاک میں اضافے کی شرح 12.9 فیصد سے کم ہو کر 1.1 فیصد پر آگئی ہے تاہم قرضوں کا حجم اور سود کی بلند ادائیگیاں ملکی معیشت پر بدستور بڑا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضے اور سود کی بھاری ادائیگیاں حکومت کے لیے مالی نظم و ضبط قائم کرنے، آمدن میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو ناگزیر بنا رہی ہیں۔