وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبے میں عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو قابل برداشت رکھنے کے لیے 1.72 ارب روپے کا ہدفی سبسڈی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، مکیش کمار چاولہ، محمد بخش خان مہر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کے دوران کہا کہ حالیہ ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرایوں میں اضافے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی کا سبب بن سکتا تھا جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ٹارگٹڈ پیپلز فیول ڈیفرینشل سبسڈی متعارف کرائی ہے۔
سبسڈی پروگرام کے تحت بسوں، منی بسوں اور کوچز کو فی گاڑی ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ویگن اور پک اپس کو 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے ماہانہ، چھوٹے مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ طویل فاصلے کی بسوں کو ماہانہ 10 لاکھ 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی تاکہ صوبے بھر میں کرایوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
مزید برآں حکومت اپریل کے مہینے میں ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے نقد فراہم کرے گی تاکہ روزمرہ سفر کرنے والے شہری ریلیف حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سبسڈی کی ادائیگی ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے ہوگی جو محکمہ ایکسائز اور ٹرانسپورٹ کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگی اور رقم مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہدفی سبسڈی پروگرام تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا کرایے مستحکم رہیں گے اور نجی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے شفافیت اور بروقت ریلیف کے ساتھ مشکل حالات میں مسافروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر دونوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔