امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، جبکہ ان کی دی گئی 10 روزہ مہلت کل 6 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ڈیل نہ کی تو اُسے تباہ و برباد کر دیا جائے گا اور جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ تہران پر ایک بڑے حملے میں ایرانی فوجی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی وہ قیادت ہدف بنی جن کا رویہ غیر محتاط تھا۔
ٹرمپ نے اس کارروائی سے متعلق حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اتحادی اسرائیل کو ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے گرین سگنل کا انتظار ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران کی توانائی تنصیبات پر آئندہ چند روز میں حملہ کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی میں بھی شدید ہلچل کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کی صورتحال، تیل کی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کے امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔