بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بجلی اور توانائی کی بچت کے لیے صوبائی حکومتوں نے مارکیٹوں، شادی ہالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں تبدیلی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
بلوچستان حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق مارکیٹیں رات 8 بجے بند ہوں گی جبکہ دواخانے اور تندور اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ شادی ہالز اور ہوٹلز کو رات 10 بجے تک بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عمل درآمد کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد عوامی ریلیف اقدامات کے تحت صوبے میں ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کی بچت کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے چھوٹے کسانوں کو کسان کارڈ کے ذریعے 15 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ پنک اور گرین بس کو ایک ماہ کے لیے فری کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے بھی بجلی کی بچت کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق صوبے میں مارکیٹیں، پلازے اور کمرشل مراکز رات 9 بجے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور 8 بجے اضلاع میں بند ہوں گے۔ ریسٹورنٹس، کیفے اور ہوٹلز رات 10 بجے بند ہوں گے جبکہ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔
شادی ہالز، مارکیز اور ایونٹس کو بھی رات 10 بجے تک محدود کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ دفاتر، بینکس، اکیڈمیز، شاپس، جم اور دیگر کمرشل سرگرمیاں بھی پابندی میں شامل ہیں۔ زرعی و تعمیراتی سرگرمیاں، اسپتال، لیبارٹریز اور ایمرجنسی سروسز ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جبکہ میڈیکل اسٹورز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے مگر صرف ادویات کی فروخت تک محدود ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں کام جاری رکھ سکیں گی لیکن غیرضروری لائٹنگ، ڈیکوریٹو اور فلڈ لائٹس، بل بورڈز، ایل ای ڈی اسکرینز اور سائن بورڈز بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کاروباری اوقات کے بعد اے سی، لفٹس اور ایسکلیٹرز کے استعمال پر پابندی ہوگی جبکہ جنریٹر کا استعمال صرف ضروری مقاصد کے لیے محدود ہوگا۔
سرکاری دفاتر میں افراد کی غیرموجودگی میں تمام برقی آلات بند رکھنے کی بھی سخت ہدایت دی گئی ہے تاکہ توانائی کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔