ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے، جس کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ تہران کو پاکستان اور دیگر ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران کو یہ تاثر ملا ہے کہ واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے معاملے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا، اسی لیے تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ نہیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران دباؤ میں آ کر کسی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے یا فوری فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مصر اور ترکیے کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
اسی سلسلے میں چند روز قبل اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترکیے، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے اگلے روز اسحاق ڈار نے چین کا دورہ بھی کیا، جبکہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران پاکستان کے امن اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔