وفاقی کابینہ کے امور کار میں تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جہاں اہم فیصلوں کی بڑی تعداد باقاعدہ اجلاسوں کے بجائے سرکولیشن سمریز کے ذریعے کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 608 فیصلے سرکولیشن سمریز کے ذریعے منظور کیے، جس کے باعث کئی معاملات باقاعدہ کابینہ اجلاسوں میں زیرِ بحث لائے بغیر نمٹا دیے گئے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کابینہ کو مالی سال کے دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے 1,211 سمریز ارسال کی گئیں، جن میں سے 54.33 فیصد سمریز کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اسی عرصے کے دوران وفاقی کابینہ کے صرف 40 باقاعدہ اجلاس منعقد ہوئے، جن میں 511 سمریز پیش کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق باقاعدہ اجلاسوں میں تفصیلی غور و خوض اور مباحثے کے بجائے، متعدد اہم معاملات کو سرکولیشن کے ذریعے نمٹانے کو ترجیح دی گئی، جس پر شفافیت اور اجتماعی فیصلہ سازی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابینہ کے فیصلوں میں سرکولیشن سمریز پر بڑھتا ہوا انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اہم پالیسی امور ممکنہ طور پر اعلیٰ سطح پر مکمل بحث و مباحثے سے نہیں گزر رہے، جو حکومتی شفافیت اور ادارہ جاتی مشاورت کے اصولوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔