واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کو پانچ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مجوزہ فریم ورک پیش کیا گیا ہے، جس کی تیاری میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
اس مجوزہ منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے بعد 15 سے 20 دنوں کے اندر ایک جامع معاہدے کے لیے مذاکرات کا عمل شروع ہونا ہے، تاہم تہران نے فی الحال خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے اور کسی بھی مقررہ مدت کی پابندی قبول کرنے سے گریزاں ہے۔
اس نازک صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے آرمی چیف نے امریکی نائب صدر، خصوصی ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ہنگامی رابطے کیے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت (منگل رات 8 بجے مشرقی وقت) تک معاہدہ طے پا کر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو تہران کو شدید فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علاقائی سطح پر متحدہ عرب امارات نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے آبنائے ہرمز تک بلا تعطل رسائی کی ضمانت ناگزیر ہے اور ایران کے ایٹمی، میزائل اور ڈرون پروگرام پر قابو پانا خطے کے استحکام کے لیے لازمی ہے۔
گزشتہ دنوں کے دوران جاری جھڑپوں میں انسانی اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی انٹیلیجنس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت کے بعد تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹر پر اسرائیلی حملے سے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
جنگ کے پانچ ہفتے گزرنے اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہارمز کی بحالی اور معاہدے کی شرائط پر گہرے اختلافات برقرار ہیں۔
یاد رہے کہ اس جنگ کے دوران اب تک ایران میں تقریباً 3,540، لبنان میں 1,461 اور امریکی فوج کے 13 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔