کراچی کی تاجر برادری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے خلاف ایک انوکھا اور منفرد احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
شہر کے تاجروں اور مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے فریسکو چوک سے کراچی پریس کلب تک گدھوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک احتجاجی ریلی نکالی، جس کا مقصد حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر اپنا شدید غم و غصہ ظاہر کرنا تھا۔
اس موقع پر تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث مہنگائی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے خلاف احتجاج کے طور پر ہم گدھوں پر سوار ہو کر سڑکوں پر آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں فوری طور پر پرانی سطح پر بحال کی جائیں تاکہ عوام اور تاجر طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے۔
کراچی انجمن تاجران کے صدر جاوید شمس نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی اور تاجروں کے لیے جینا محال ہو چکا ہے۔
احتجاج میں شامل ایک اور تاجر رہنما منہاج گلفام کا کہنا تھا کہ ہم حالات سے تنگ آ کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں اور حکومت کو اب اپنی معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
تاجروں کا متفقہ مؤقف تھا کہ مہنگائی اب قابو سے باہر ہو چکی ہے اور جب تک ایندھن کی قیمتیں واپس کم نہیں کی جاتیں، تب تک ان کا احتجاج جاری رہ سکتا ہے۔