وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال نے سب کو اپنی آگ کی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جبکہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری نبھائی یا نہیں، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 28 فروری کو ایران میں بمباری کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں 20 سے 25 فیصد سپلائی متاثر ہوئی۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا، تاکہ سپلائی چین کو برقرار رکھا جا سکے اور ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے کفایت شعاری، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی حالات غیر معمولی ہیں، اور حکومت توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔