جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے آئندہ جمعے کو احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہر طبقے کو متاثر کر رہا ہے اور اس فیصلے نے عام آدمی کا سکون چھین لیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس مہنگائی کے خلاف آئندہ جمعے کو احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے بعض قوانین پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد، ٹرانس جینڈر اور 18 سال سے کم عمر شادی سے متعلق قوانین سمیت دیگر ایسے اقدامات، جو ان کے بقول شریعت کے خلاف ہیں، ختم کیے جائیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بیوی کو خاوند کی جائیداد میں 50 فیصد حصہ دینے سے متعلق قانون سازی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
جے یو آئی (ف) سربراہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی مینڈیٹ کی حقیقی نمائندہ نہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سہارے قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، جبکہ جے یو آئی اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 12 اپریل کو مردان میں ایک بڑے اجتماع کی صورت میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی حالات اور ریاستی نزاکتوں کے پیش نظر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ سیاسی قیادت کو عالمی اور علاقائی صورتحال پر اعتماد میں لیا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو اپنی مغربی اور مشرقی سرحدوں سے متعلق بھی سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ عالمی سطح پر مسلم دنیا دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا، اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور فلسطین، ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک پر حملے کیے گئے۔