امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے آج رات تک کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور کہا ہے کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیے آج کی ڈیڈ لائن آخری ہے اور اگر ڈیل نہ ہوئی تو ایران کے پاور پلانٹس اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں بارہ بجے سے پہلے ایران کے ہر پاور پلانٹ کو تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو مذاکرات کے حق میں ہیں اور نئی قیادت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے لیے فعال اور سنجیدہ شرکا موجود ہیں جبکہ چند اہم ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب تھا تاہم مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت بھی سخت فیصلے کیے گئے اور اگر اس بار معاہدہ نہ ہوا تو مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا ہے تو اسے بحال کرنے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں جبکہ بعض صورتوں میں سو سال تک کا عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔