ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار نے ایک اہم دعویٰ سامنے لایا ہے جس میں ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی جریدے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر بے ہوش ہیں اور ایرانی شہر قم میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ تاحال کسی بھی حکومتی فیصلے میں شامل نہیں ہو رہے اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے برعکس مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت میں کوئی واضح بہتری نہیں آئی، جبکہ سرکاری سطح پر بھی ان کی موجودگی محدود دکھائی دے رہی ہے۔
اس سے قبل مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کے پیغامات سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کیے جاتے رہے ہیں لیکن وہ خود عوام کے سامنے نہیں آئے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔