وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے باہمی تعلقات، عدالتی تعاون، انصاف کی فراہمی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور قانونی شعبے میں اشتراکِ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک شہریوں کو انصاف تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ کے وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) اس سمت میں ایک اہم اور پہلا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجربات کے تبادلے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی، انسدادِ دہشتگردی، امیگریشن، قانون سازی اور قوانین کے نفاذ جیسے اہم شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس موقع پر ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کے دل میں بسی ہوئی ہے۔
قادر اوزقایا نے کہا کہ ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور وہ اپنے وسیع عدالتی تجربے کے تبادلے کے لیے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ملاقات میں ترکیہ کی آئینی عدالت کے جج صاحبان رضوان گیولیچ اور رجائی آق یل بھی شریک تھے، جبکہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نظیر اولو بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس کے علاوہ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔