حکومت سندھ نے پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر شہریوں کے لیے ایک اہم ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل رکھنے والوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کے مطابق ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے مالک کو 2 ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی تاکہ روزمرہ سفر کے اخراجات میں کچھ کمی لائی جا سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث عوام پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے حکومت نے انہیں فوری ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں تقریباً 67 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اسکیم کتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
سبسڈی حاصل کرنے کے لیے حکومت نے ایک واضح طریقہ کار بھی جاری کیا ہے۔ موٹر سائیکل مالکان کو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کرانا ہوگی، جس کے لیے درست شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنی موٹر سائیکل اپنے نام پر منتقل کروائیں، تاکہ وہ اس سہولت کے لیے اہل بن سکیں۔ اس مدت کے دوران ملکیت کی منتقلی پر کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق، تصدیق مکمل ہونے کے بعد اہل افراد کے بینک اکاؤنٹس میں فی موٹر سائیکل 2 ہزار روپے براہِ راست منتقل کیے جائیں گے، اور ادائیگی کا عمل 15 سے 20 اپریل کے درمیان مکمل ہونے کا امکان ہے۔
یہ اقدام مہنگائی کے دباؤ میں زندگی گزارنے والے شہریوں، خاص طور پر روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک فوری مالی سہارا سمجھا جا رہا ہے۔