بس یہ دن دیکھنا رہ گیا تھا! باپ کا طلاق پر بیٹی کا ڈھول کی تھاپ میں استقبال

image

بھارت کے شہر میرٹھ میں ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک باپ نے بیٹی کی طلاق کو غم کے بجائے حوصلے اور حمایت کی علامت بنا دیا۔ ریٹائرڈ جج گیانیندر شرما نے اپنی بیٹی پرنیتا شرما کا استقبال ڈھول تاشوں، مٹھائیوں اور خوشی کے اظہار کے ساتھ کیا، جس نے روایتی سماجی رویوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پرنیتا شرما اپنی ازدواجی زندگی کے خاتمے کے بعد جب اپنے والد کے گھر واپس پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے ایک باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

اس موقع پر نہ صرف ڈھول بجائے گئے بلکہ خاندان کے افراد اور قریبی عزیزوں نے رقص کر کے خوشی کا اظہار بھی کیا۔ استقبال کے دوران شریک افراد نے سیاہ رنگ کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر I Love My Daughter کے الفاظ درج تھے، جو بیٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی واضح علامت تھے۔

گیانیندر شرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی تقریباً آٹھ سال قبل ایک آرمی افسر سے ہوئی تھی، تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اسے مشکلات اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق پرنیتا نے طویل عرصے تک ذہنی اور جذباتی دباؤ برداشت کیا، مگر آخرکار اس نے علیحدگی کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ایک باوقار اور پُرسکون زندگی گزار سکے۔

پرنیتا شرما کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریباً سات سال تک حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن جب صورتحال میں بہتری نہ آئی تو انہوں نے اپنی زندگی کے لیے ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق والد کی جانب سے اس طرح کا استقبال ان کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔

یہ واقعہ ایسے معاشروں کے لیے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں طلاق کو بالخصوص خواتین کے لیے منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے اور اسے ایک باپ کی غیر مشروط محبت اور حمایت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US