پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 منایا جا رہا ہے جس کا مرکزی موضوع ’’صحت کے لیے متحد ہوں، سائنس کا ساتھ دیں‘‘ رکھا گیا ہے۔
اس موقع پر طبی ماہرین نے انسانی جانوں کے تحفظ اور بیماریوں کے علاج میں سائنس کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پچاس برس کے دوران ویکسینز نے دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں جانیں بچائی ہیں جبکہ پاکستان میں گزشتہ 30 برس کے دوران 20 لاکھ سے زائد افراد کو پولیو سے محفوظ بنایا جا سکا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دس برس میں پاکستان میں 50 لاکھ افراد کی تپِ دق (ٹی بی) کی تشخیص اور علاج ممکن ہوا ہے، جبکہ ملیریا کے خاتمے کے لیے بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جدید طبی ٹیکنالوجیز جیسے کہ ایکس رے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور الٹراساؤنڈ نے تشخیص کے عمل کو انتہائی درست اور مؤثر بنا دیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری نے کہا ہے کہ میڈیکل سائنس کی بدولت آج ملیریا، ہیپاٹائٹس سی، کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریاں یا تو قابلِ علاج ہیں یا ان سے بچاؤ ممکن ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کارڈ جیسی سہولیات لاکھوں شہریوں کو مفت علاج فراہم کر رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس صحت کو ایک بنیادی انسانی حق بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
طبی ماہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر، بروقت ویکسینیشن اور جدید علاج ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں اور ورلڈ ہیلتھ ڈے صحت کے میدان میں سائنس کے ساتھ جڑنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔