کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی میں صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہی گیری کی صنعت کو منظم کرنے اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں ماہی گیروں اور شکار والی کشتیوں کی رجسٹریشن کے لیے قومی شناختی کارڈ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا، اور وزیرِ فشریز نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ کے بغیر کسی بھی ماہی گیر کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے ماہی گیری کی صنعت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ’ون ونڈو آپریشن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ فشریز سندھ اب تک 7275 ماہی گیروں اور 8253 شکار کی کشتیوں کی رجسٹریشن مکمل کر چکا ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 35 لاکھ 73 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔
اجلاس میں جیٹیز کی رجسٹریشن کے لیے سخت ضوابط اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت صرف مقررہ شرائط پوری کرنے والی جیٹیز کو ہی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے اور مالکان ماہی گیروں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ماہی گیری کے وسائل اصل اور مقامی ماہی گیروں کے حوالے کیے جائیں۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری آصف خان، سیکریٹری فشریز ڈاکٹر کاظم جتوئی، چیئرپرسن فاطمہ مجید کے علاوہ کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سیکیورٹی اور سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔