پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی نے آئندہ بیساکھی تقریبات کے سلسلے میں بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے 2,800 سے زائد ویزے جاری کر دیے ہیں۔ یہ تقریبات 10 سے 19 اپریل 2026 تک پاکستان میں منعقد ہوں گی۔
بھارتی سکھ یاتری اپنے مذہبی سفر کے دوران پاکستان میں واقع اہم اور مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کریں گے، جن میں گوردوارہ پنجہ صاحب، گوردوارہ ننکانہ صاحب اور گوردوارہ کرتارپور صاحب شامل ہیں۔
اس موقع پر بھارت میں پاکستان کے ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے سکھ برادری کو بیساکھی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنے والے یاتریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کا یہ سفر روحانی اعتبار سے بھرپور اور یادگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک بین المذاہب ہم آہنگی، بین الثقافتی احترام اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
سعد احمد وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مختلف مذاہب کے مقدس مقامات کا امین ہے اور ملک آئندہ بھی برداشت، خیرسگالی اور باہمی احترام جیسے عالمی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ مذہبی دورہ 1974 کے دوطرفہ پروٹوکول برائے مذہبی زیارات کے تحت ہو رہا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہریوں کو مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے باقاعدہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بیساکھی سکھ برادری کا ایک اہم مذہبی اور ثقافتی تہوار ہے، جو پنجاب میں فصل کٹائی کی خوشی کے ساتھ ساتھ 1699 میں خالصہ کے قیام کی یاد میں بھی منایا جاتا ہے۔
ہر سال بھارت سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آ کر اپنے مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کرتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، مذہبی اور روحانی روابط کو مزید تقویت ملتی ہے۔