قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار کے حوالے سے اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور عوام کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران جانوروں کی نقل و حرکت بڑھنے کے باعث کانگو بخار کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے لہٰذا بروقت احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق کانگو بخار ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً جانوروں کے جسم پر موجود چیچڑی (ٹِکس) کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانوروں کے خون یا بافتوں کے ساتھ رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
قومی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں 61 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں شرح اموات 15 فیصد رہی جبکہ 2025 میں کیسز بڑھ کر 82 ہوگئے جن میں 20 اموات ہوئیں۔ رواں سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں بھی کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کے کیسز سب سے زیادہ بلوچستان میں سامنے آتے ہیں تاہم سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی یہ وائرس موجود ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ چیچڑی آسانی سے نظر آئے، جانوروں کو ذبح کرتے وقت دستانوں کا استعمال کریں اور خون اور آلائشوں سے خود کو محفوظ رکھیں اس کے علاوہ ایسے مقامات سے گریز کریں جہاں ٹِکس کی تعداد زیادہ ہو۔