ایران کی جانب سے گزشتہ رات سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جسے جاری سفارتی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کوششیں ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات جیسے سویلین اہداف کو نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ، غیر ضروری اقدام ہے جو نہ صرف امن عمل کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض ذمہ دار ایرانی حکام پاکستان کی جانب سے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں جس کی ایک مثال پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کا حالیہ بیان بھی ہے۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کے شہر الجبیل میں تیل تنصیبات پر حالیہ حملے کی مذمت ضروری ہے تاکہ خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی عمل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔