امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں سنگین اضافہ کرتے ہوئے ایک بار پھر سخت دھمکی دی ہے کہ آج رات ایران کی "پوری تہذیب" ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خونریزی اور بدعنوانی کی 47 سالہ تاریخ اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم، اب جبکہ ہم نے مکمل رجیم تبدیل کردی ہے ، جہاں مختلف، زیادہ ذہین اور کم انتہا پسند سوچ رکھنے والے لوگ غالب ہوں گے، تو شاید کوئی انقلابی اور شاندار چیز وقوع پذیر ہو جائے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے، خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ بالآخرختم ہونے جارہی ہے، ایران کے عظیم عوام پر خدا کی رحمت ہو!
صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تازہ ترین ڈیڈ لائن پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح ختم ہو رہی ہے۔ اس سے قبل وہ کئی بار حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کے دن کو "پاور پلانٹ اور پلوں کا دن" قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے تمام پاور پلانٹس اور انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا جائے گا۔
اس سے قبل 21 مارچ، 27 مارچ اور 6 اپریل کی ڈیڈ لائنز دی گئی تھیں، جنہیں مختلف مذاکرات کے پیشِ نظر ملتوی کیا جاتا رہا۔
ایران کی جانب سے ان دھمکیوں پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی صدر کے بیان کو "جنگی جرم" اور "تہذیب پر حملہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی 6 ہزار سالہ قدیم تہذیب کو مٹانا ممکن نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے سرخ لکیر عبور کی تو ایرانی جواب خطے کی حدود سے باہر تک جائے گا۔
عالمی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف ٹرمپ ایران کو "پتھر کے دور" میں بھیجنے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش اور جوابی حملوں کا انتباہ دے رکھا ہے۔