گرمیوں میں شوق سے کھایا جانے والا میٹھا اور رسیلا پھل تربوز جہاں اپنی تازگی اور ذائقے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے، وہیں ماہرین کے مطابق اس کا وہ حصہ بھی بے حد مفید ہے جسے اکثر لوگ ضائع کر دیتے ہیں۔ ماہر غذائیت لوینیت بترا نے انکشاف کیا ہے کہ تربوز کا چھلکا بھی غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے کھانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تربوز، جو وٹامن اے اور سی کا بہترین ذریعہ مانا جاتا ہے، عام طور پر اس کے سرخ، گلابی یا پیلے گودے کی وجہ سے کھایا جاتا ہے جبکہ اس کا سخت سبز چھلکا پھینک دیا جاتا ہے۔ تاہم ماہر غذائیت لوینیت بترا کے مطابق یہ عمل درست نہیں کیونکہ تربوز کا چھلکا بھی کھانے کے قابل اور مفید ہوتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو میں بتایا کہ زیادہ تر لوگ سرخ حصہ کھانے کے بعد سفید چھلکا ضائع کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی حصہ غذائیت کا ایک اہم خزانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حصے میں (Citrulline) نامی ایک طاقتور امینو ایسڈ پایا جاتا ہے، جو جسم میں جا کر آرجینائن میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بعد ازاں نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
ماہر غذائیت کے مطابق تربوز کے چھلکے کے کئی فوائد ہیں، جن میں دل کی صحت کو بہتر بنانا، خون کی نالیوں کو مضبوط رکھنا اور خون کے بہاؤ کو بہتر کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فائبر، وٹامن سی، وٹامن بی 6، رائبوفلاوین اور وٹامن اے بھی موجود ہوتے ہیں۔
لوینیت بترا نے تربوز کے چھلکے کو استعمال کرنے کے چند آسان طریقے بھی بتائے ہیں۔ ان کے مطابق اسے اسمو دیز میں شامل کیا جا سکتا ہے، چٹنی تیار کی جا سکتی ہے، مصالحوں کے ساتھ فرائی کر کے سبزی کے طور پر پکایا جا سکتا ہے یا اس کا اچار بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
اس تحریر میں فراہم کی گئی معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔