ایران نے جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ مذاکرات کے لیے 10 نکات پر مشتمل اہم فارمولا پیش کر دیا ہے، جس میں تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے بدلے ایران کو محدود یورینیم افزودگی کی اجازت دینا ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے مجوزہ نکات میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے پابندیوں کے خاتمے، سلامتی کی ضمانتوں اور خطے میں امریکی کردار میں کمی کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔
ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکات درج ذیل ہیں:
1. ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوگا۔
2. ایران کو محدود یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے۔
3. ایران پر عائد تمام عالمی پابندیاں ختم کی جائیں۔
4. ایران کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلیے فنڈ قائم کیا جائے۔
5. خطے سے امریکی افواج کا انخلا یقینی بنایا جائے۔
6. آبنائے ہرمز میں محدود آمد ورفت بحال کی جائے۔
7. ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کا خاتمہ کیا جائے۔
8. مزاحمتی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
9. ایران کو خطے کے ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے کی اجازت دی جائے۔
10. کسی بھی معاہدے کی اقوام متحدہ کے ذریعے توثیق کی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے اس مجوزہ فریم ورک کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر حتمی پیش رفت کا انحصار امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ردعمل پر ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے ان نکات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تو یہ خطے میں جنگ بندی، بحری راستوں کی بحالی اور جوہری تنازع کے حل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔