پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے پر نمایاں ہوگیا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ازلی حریف بھارت کے تجزیہ کار اور میڈیا بھی پاکستان کی کامیاب ثالثی اور سفارتی حکمت عملی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے نہایت متوازن، فعال اور بروقت سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑے ممکنہ عالمی تصادم کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعض بھارتی مبصرین نے یہاں تک کہا کہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ جیسے خطرناک منظرنامے کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں، بیک ڈور ڈپلومیسی اور اعتماد سازی کے ذریعے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بھارتی میڈیا نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے ان کی سفارتی اور اسٹریٹجک کاوشوں کو سراہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 10 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع اہم مذاکرات خطے کے امن، استحکام اور مستقبل کی سفارتی پیش رفت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور استحکام کے لیے ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔