افغانستان میں شدید بارشوں کے باعث چھوٹے اور بڑے دریاؤں میں طغیانی پیدا ہوچکی ہے اور یہ سیلابی پانی پاکستانی سرحد کے قریب پہنچ گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، دریائے کابل بذات خود موجزن ہے اور اس میں افغانستان کے مختلف شاخ دریا جیسے دریائے پنج شیر، کونڑ، خوگیانڑو، چپلیار، ایسار، شینواری، غنی خیل، مومند درہ، شیرزاد، پچیراگام اور خیوا کے بھپرے ہوئے پانی شامل ہو رہا ہے، جو اونچے درجے کے سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف صوبوں اور اضلاع سے دریائے کابل میں شامل ہونے والے دریاؤں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ خاص طور پر خوگیانڑو سے 4، چپلیار سے 6، شیرزاد سے 5، پچیراگام سے 5، اور خیوا سے 4 موجزن دریا پہلے سے بھپرے ہوئے دریائے کابل میں شامل ہو رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یہ اونچے درجے کا سیلاب نہ صرف پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کو متاثر کرے گا بلکہ اٹک کے نیچے پاکستان بھر میں بھی سیلابی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔