پاکستان میں پاسپورٹ کی تجدید کا عمل 2026 میں مزید آسان

image

پاکستان میں پاسپورٹ کی تجدید کا عمل 2026 میں مزید آسان اور جدید بنا دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو لمبی قطاروں اور دفاتر کے چکر لگانے سے نجات مل گئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اپنے آن لائن نظام کو اپ گریڈ کر دیا ہے، جس کے ذریعے اب ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے پاسپورٹ کی تجدید کر سکتے ہیں۔

ماضی میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے شہریوں کو پاسپورٹ دفاتر کے چکر لگانا پڑتے تھے جہاں طویل انتظار، رش اور کاغذی کارروائی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا تھا کیونکہ انہیں سفارت خانوں یا قونصل خانوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی آئی اینڈ پی نے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا، اور 2026 کا ای سروسز پورٹل اب تک کا سب سے مؤثر اور تیز نظام قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو سب سے پہلے ای سروسز پورٹل پر جا کر رجسٹریشن یا لاگ اِن کرنا ہوگا، جہاں وہ اپنے ای میل اور موبائل نمبر کے ذریعے اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں۔ لاگ اِن ہونے کے بعد 'Renewal of Machine Readable Passport' کا آپشن منتخب کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنا ضروری ہے، جن میں موجودہ پاسپورٹ کے پہلے دو صفحات، شناختی کارڈ یا نائیکوپ (NICOP) کی کاپیاں، اور سفید پس منظر کے ساتھ ڈیجیٹل تصویر شامل ہیں، جس کا سائز زیادہ سے زیادہ 5 ایم بی ہونا چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے اضافی دستاویزات بھی درکار ہیں، جن میں فراہم کردہ فارم پر فنگر پرنٹس، والدین کے شناختی کارڈز اور فارم بی یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔

دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد فیس کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے، جس کے لیے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے براہ راست پورٹل پر یا پاسپورٹ فیس آسان ایپ کے ذریعے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ 2026 میں 36 صفحات پر مشتمل پانچ سالہ پاسپورٹ کی متوقع فیس نارمل سروس کے لیے تقریباً 4,500 روپے جبکہ ارجنٹ سروس کے لیے تقریباً 7,500 روپے ہے، تاہم درخواست جمع کرانے سے قبل تازہ فیس شیڈول کی تصدیق ضروری ہے۔

درخواست جمع ہونے کے بعد صارفین پورٹل کے ذریعے اپنے کیس کی پیش رفت کو ٹریک کر سکتے ہیں۔ نئے نظام کے تحت پراسیسنگ وقت میں نمایاں کمی آئی ہے، جہاں فاسٹ ٹریک سروس کے تحت پاسپورٹ صرف 2 ورکنگ دن میں جبکہ نارمل سروس کے تحت تقریباً 10 سے 15 ورکنگ دن میں تیار ہو جاتا ہے۔ منظوری کے بعد پاسپورٹ براہ راست صارف کے دیے گئے پتے پر کوریئر کے ذریعے پہنچا دیا جاتا ہے، جس کے لیے درخواست دیتے وقت درست ایڈریس فراہم کرنا نہایت اہم ہے۔

دوسری جانب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی پاسپورٹ کی آن لائن تجدید کی سہولت مکمل طور پر دستیاب کر دی گئی ہے، جو ان کے لیے نہایت آسان اور مؤثر حل ثابت ہو رہی ہے۔ اب برطانیہ، امریکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں رہنے والے پاکستانی بغیر کسی سفارت خانے یا قونصل خانے کے دورے کے گھر بیٹھے اپنا پاسپورٹ تجدید کر سکتے ہیں۔

اس عمل کے لیے چند اہم نکات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، درخواست شروع کرنے سے قبل یہ یقینی بنانا ہوگا کہ نائیکوپ (NICOP) کارآمد ہو اور اس کی معیاد ختم نہ ہوئی ہو۔ مزید یہ کہ نیا پاسپورٹ براہ راست بیرونِ ملک آپ کے گھر کے پتے پر ارسال کیا جا سکتا ہے، تاہم بین الاقوامی کوریئر چارجز مقامی ترسیل کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US