امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 15 روزہ جنگ بندی کے بعد جاری کردہ اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا اب ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا اور جنگ بندی کے لیے طے پانے والے 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہوچکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، اس معاہدے کا ایک اہم پہلو ایران میں ایک نہایت مؤثر نظامِ حکومت کی تبدیلی لانا ہے۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کی جائے گی، اور امریکا، ایران کے ساتھ مل کر زمین میں دفن تمام نیوکلیئر مواد کو نکال کر تلف کرے گا، جس کی نگرانی سیٹلائٹ کے ذریعے انتہائی سختی سے کی جاتی رہے گی۔
ٹرمپ نے محصولات اور پابندیوں پر بات چیت کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو ممالک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کریں گے، ان پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ ٹیرف ان ممالک کی جانب سے امریکا کو فروخت کی جانے والی تمام اشیاء پر لاگو ہوگا اور اس میں کسی بھی قسم کی رعایت یا استثنا نہیں دیا جائے گا۔
قبل ازیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزرنا شروع ہوگئے۔
میری ٹائم مانیٹر میرین ٹریفک کے مطابق ایران امریکا جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے 2 جہاز گزرے، آبنائے ہرمز سےگزرنے والےجہاز یونان اور لائبیریا کے ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ امریکا کا پہلا جہاز بھی آبنائے ہرمز سے روانہ ہوچکا ہے۔