پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اہم کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے فی الحال دو ہفتوں کے لیے بجھ گئے ہیں اور اگر اللہ کو منظور ہوا تو یہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جائے گا۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی اپیل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع دی، جبکہ ایران کی جانب سے بھی جنگ بندی کی تجویز پر غور شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اللہ کا خاص کرم، قومی اتحاد اور پاکستان کے لیے عالمی سطح پر عزت و وقار قرار دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس اہم سفارتی کامیابی کے پیچھے سیاسی اور عسکری قیادت کا مکمل اتفاق اور یکسوئی کارفرما رہی، اور آئندہ بھی قومی مفاد کے تحفظ کے لیے یہی اتحاد برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوششیں کی گئیں اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے ذریعے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہوئی، تاہم قوم کی دعاؤں، قیادت کی حکمتِ عملی اور بروقت سفارتی اقدامات کے باعث یہ خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کا داعی ملک ہے، اور عالمی برادری بھی پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان بھی کردیا ہے، جسے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔