بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے 3 فٹ قد کے ڈاکٹر گنیش برائیا ہمت، عزم اور لگن کی ایک ایسی مثال بن کر سامنے آئے جنہوں نے قانونی رکاوٹوں اور جسمانی مشکلات کے باوجود اپنے ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ ان کا سفر 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میڈیکل کونسل آف انڈیا (ایم سی آئی) نے صرف ان کے قد کی بنیاد پر انہیں ایم بی بی ایس پروگرام میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گنیش برائیا کا قد محض تین فٹ ہے اور وزن 20 کلوگرام سے بھی کم ہے، جو کہ بونے پن (ڈوارفزم) کے باعث ہے، جبکہ وہ 72 فیصد جسمانی معذوری کا بھی شکار ہیں۔ ایم سی آئی نے ابتدائی طور پر مؤقف اختیار کیا کہ ان کی جسمانی حالت بطور ڈاکٹر فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
تاہم گنیش برائیا نے ہمت نہ ہاری۔ ہائی اسکول مکمل کرنے والے برائیا نے اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس قانونی جنگ میں ان کے اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر دلپت بھائی کٹاریا نے بھرپور ساتھ دیا اور ان کے کسان خاندان، جو بھاو نگر سے تعلق رکھتا ہے، کے لیے قانونی اخراجات برداشت کیے۔ اگرچہ ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر ایم سی آئی کے فیصلے کو برقرار رکھا، لیکن برائیا نے اپنے خواب سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور اس دوران عارضی طور پر بی ایس سی پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنے کے چار ماہ بعد عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ گنیش کو صرف ان کے تین فٹ قد کی بنیاد پر داخلے سے محروم نہیں کیا جا سکتا، یوں ان کے لیے ڈاکٹر بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔
عدالتی فیصلے کے بعد گنیش برائیا نے 2019 میں بھاو نگر میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ ریاستی قوانین کے مطابق انٹرن شپ مکمل کرنے کے بعد وہ اب بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کا خواب وہ برسوں سے دیکھتے آ رہے تھے۔
گنیش برائیا کا کہنا ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں غریب لوگوں کا علاج کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ وہ دنیا کے کم قد والے ڈاکٹروں میں شمار ہونے کے بھی امیدوار ہیں۔
اپنی روزمرہ مشکلات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مریض ابتدا میں ان کے قد کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ انہیں قبول کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق مریضوں کا رویہ بعد میں خوشگوار اور مثبت ہو جاتا ہے، جس سے انہیں بھی حوصلہ ملتا ہے۔
گنیش برائیا کی کہانی اس بات کی واضح مثال ہے کہ مضبوط ارادہ، مستقل مزاجی اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ کسی بھی جسمانی رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے۔