مقبوضہ فلسطین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ایلا واویہ ان دنوں سوشل میڈیا اور حلقوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جو اسرائیلی فوج کی نمائندگی کرتے ہوئے عرب دنیا کے لیے پیغامات جاری کرتی ہیں۔ ایک قدامت پسند مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایلا کی زندگی اور فیصلے کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔
العربیہ اردو کے مطابق ایلا واویہ اپنے استاد اور اسرائیلی فوج کے ترجمان افيخائے ادرعی کی نیابت میں اکثر اسرائیلی فوجی وردی میں دکھائی دیتی ہیں۔ عربی زبان پر مکمل عبور رکھنے والی ایلا ایک عرب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور فلسطینی پس منظر کی حامل ہیں۔
ایلا واویہ اکتوبر 1989 میں مقبوضہ فلسطین کے شہر قلنسوہ میں ایک مذہبی اور قدامت پسند مسلمان خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی پیدائش پہلی فلسطینی انتفاضہ کے دوران ہوئی، جس کے اثرات ان کی ابتدائی زندگی پر بھی مرتب ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، جس کے بعد نتانیا اکیڈمی سے کمیونیکیشن میں امتیازی ڈگری حاصل کی۔ میڈیا میں دلچسپی رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو فلسطینی کاز کے بجائے اسرائیلی بیانیے کے لیے استعمال کیا۔ سنہ 2010 میں انہوں نے مشترکہ زندگی کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد عرب اور یہودی ثقافتوں کے درمیان بقائے باہمی کو فروغ دینا تھا۔
ایلا کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے ایک اسرائیلی کمیٹی کے لیکچر کے دوران، جو کٹر مذہبی یہودیوں کی فوج میں بھرتی سے متعلق تھا، کھل کر اسرائیلی فوج میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ وہاں موجود فوجی حکام نے ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں انٹیلی جینس اور میڈیا شعبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے یہ بات خفیہ رکھتے ہوئے فوجی تربیت حاصل کی، جس کا علم بعد میں اہل خانہ کو ٹی وی پر ان کی گریجویشن دیکھ کر ہوا۔
فلسطینی معاشرے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کو عموماً غداری تصور کیا جاتا ہے، تاہم ایلا واویہ نے ان روایات کے برعکس اسرائیلی فوج میں میجر کے عہدے تک رسائی حاصل کی۔ وہ اس وقت افيخائے ادرعی کی نگرانی میں عرب دنیا کے لیے اسرائیلی فوج کی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ نرم لہجے اور محتاط الفاظ کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے دوران ایلا واویہ لبنانی عوام، خصوصاً حزب اللہ کے حامیوں اور مسیحی برادری کو مخاطب کرتی ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات میں حزب اللہ کو لبنان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایران کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خطے میں دہشت گردی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق لبنان کی حقیقی آزادی حزب اللہ کے اثر سے نکلنے اور ایرانی کردار کے خاتمے میں ہے۔