سول عدالتیں شناختی کارڈ بلاک یا منسوخ نہیں کرسکتیں، لاہور ہائیکورٹ

image

لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سول عدالتیں کسی بھی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک یا منسوخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ شناختی کارڈ شہری کی بنیادی اور ذاتی شناخت ہے، جبکہ یہ وفاقی حکومت کی ملکیت تصور ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق شناختی کارڈ نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہی کسی دوسرے شخص کو منتقل کیا جا سکتا ہے، اور شہری کے انتقال کے بعد بھی یہ وراثت میں منتقل نہیں ہوتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ہر شہری کے لیے نادرا میں رجسٹریشن لازمی ہے۔ عدالت کے مطابق 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر قومی شناختی کارڈ بنوانا ضروری ہے، جبکہ کم عمر بچوں کی رجسٹریشن والدین کی ذمہ داری ہے۔

یہ اہم فیصلہ شہری علی انصاری کی درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے سول عدالت کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سول عدالت کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 15 دن کے اندر شناختی کارڈ بحال کیا جائے۔

یہ 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس تنویر احمد شیخ کی جانب سے جاری کیا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US