کراچی: جدید طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ خوراک میں معمولی تبدیلی، خصوصاً نمک کے انتخاب میں احتیاط، دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مہلک امراض سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر جسے طبی ماہرین اکثر خاموش قاتل قرار دیتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ عام نمک کا زیادہ استعمال ہے۔
بین الاقوامی طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی ایشیا میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیق کے مطابق عام نمک کے بجائے متبادل نمک (پوٹاشیم سالٹ) کا استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے کا آسان اور مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے، جو بالآخر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک امراض کے امکانات میں کمی لاتا ہے۔
اس تحقیق میں 29 ہزار 570 افراد پر مشتمل 21 مختلف طبی آزمائشوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ نمک میں تبدیلی انسانی صحت، خاص طور پر بلڈ پریشر پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عام نمک بنیادی طور پر سوڈیم کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی زیادتی خون کی شریانوں میں تناؤ پیدا کر کے بلڈ پریشر بڑھاتی ہے۔ اس کے برعکس متبادل نمک میں سوڈیم کی مقدار کم جبکہ پوٹاشیم کلورائیڈ شامل کیا جاتا ہے، جو نہ صرف جسم میں سوڈیم کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے بلکہ خون کی نالیوں کو پرسکون کر کے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق متبادل نمک کا استعمال سسٹولک (اوپر والا) اور ڈائیسٹولک (نیچے والا) دونوں طرح کے بلڈ پریشر میں واضح کمی کا باعث بنتا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گھروں میں اس کے استعمال سے بلڈ پریشر میں اوسطاً 4.2 mm Hg کمی آئی، جبکہ اجتماعی مقامات جیسے ہاسٹلز اور کینٹینز میں یہ کمی تقریباً 7.7 mm Hg تک ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک میں نمک کا استعمال عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے دل کے امراض اور فالج کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق فالج کے تقریباً دو تہائی اور دل کی شریانوں کی بیماریوں کے نصف کیسز کی بنیادی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہی ہوتا ہے۔
طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا نمک استعمال کیا جائے جس میں سوڈیم کم اور پوٹاشیم کی مناسب مقدار موجود ہو۔ تحقیق کے مطابق 30 فیصد تک پوٹاشیم کلورائیڈ پر مشتمل متبادل نمک نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ذائقے میں بھی عام نمک جیسا ہی محسوس ہوتا ہے، اور 80 فیصد سے زائد افراد دونوں میں فرق بھی محسوس نہیں کر پاتے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گردوں کے امراض میں مبتلا افراد پوٹاشیم کی زیادہ مقدار کے باعث اس قسم کے نمک کے استعمال سے قبل لازمی طور پر اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق اگر حکومتی سطح پر ایسی پالیسیز متعارف کرائی جائیں جو متبادل نمک کے استعمال کو فروغ دیں، تو دل کے امراض میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور لاکھوں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔