پشاور ہائی کورٹ نے اپر کوہستان اسکینڈل میں منجمد اثاثوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کا 31 اکتوبر 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کی سربراہی میں دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت ایک ماہ کے اندر اعتراضات پر دوبارہ فیصلہ کرے اور تمام فریقین کو سن کر قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ بغیر انکوائری اور شواہد کے اپیلیں خارج کرنا شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے مکمل ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ احتساب عدالت متنازع جائیدادوں کے قبضے سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرے اور کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے۔مزید کہا گیا ہے کہ حتمی فیصلے تک درخواست گزاروں کے خلاف منجمد اثاثوں سے متعلق کوئی مزید کارروائی نہ کی جائے۔