ایران اور امریکا کے مابین پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں واپس روانہ ہوگیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے ان اعصاب شکن مذاکرات کے حوالے سے ایرانی میڈیا اور امریکی حکام کی جانب سے متضاد موقف سامنے آئے ہیں۔
اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران نے امریکا کی شرائط ماننے سے انکار کیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔
امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔ ان تاریخی براہ راست مذاکرات کے دوران تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی اور تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوا اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کیں، لیکن ایران نے ان شرائط کو تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔
جے ڈی وینس نے خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہ کرنے کے حوالے سے کوئی واضح یا مثبت تصدیق سامنے نہیں آئی، جو امریکا کے لیے ایک کلیدی شرط تھی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کے "حد سے زیادہ مطالبات" بنے، جنہوں نے مشترکہ فریم ورک اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔
ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکا نے میز پر وہ تمام مطالبات رکھ دیے جو وہ کسی جنگ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر سکا تھا۔
ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری حقوق، جنگی ہرجانہ اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث رہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار دوسرے فریق کی سنجیدگی اور غیر قانونی مطالبات سے گریز پر ہے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور خطے میں اس کے خلاف جاری معاندانہ اقدامات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
مذاکرات کی میزبانی کرنے پر امریکی نائب صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم، فریقین کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی کے امور پر ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے باعث یہ مشن کسی بریک تھرو کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔